ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / سپریم کورٹ کے فیصلے پر نربھیا کے گاؤں میں خوشی کا ماحول، لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں 

سپریم کورٹ کے فیصلے پر نربھیا کے گاؤں میں خوشی کا ماحول، لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں 

Mon, 09 Jul 2018 22:38:52    S.O. News Service

بلیا:09/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ملک و دنیا کو ہلادینے نے والے ’نربھیا‘معاملے کے تین گنہگاروں کی موت کی سزا سپریم کورٹ کی طرف سے بحال کئے جانے کے بعد اس معاملے کے خاندان والے اور اس بلیا واقع آبائی گاؤں کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ بہار کی سرحد سے ملحق بلیا ضلع کے نرہدی تھانہ علاقے میں واقع دہلی کے اجتماعی عصمت دری معاملے کی متاثرہ کے آبائی گاؤں میڑوار کلاں میں آج دوپہر جیسے ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کی جانکاری ملی، ملزمین کے خاندان اور گاؤں والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔فیصلے کے بعد گاؤں میں لوگوں نے مٹھائیاں بانٹی اور مندر میں خصوصی پوجا کی۔ مندر میں خواتین نے خوشی ظاہر کی۔نربھیا کے دادا لال جی سنگھ نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اب تک درندوں کو پھانسی مل گئی ہوتی تو آئے دن سامنے آ رہی حیوانیت کے واقعات شاید نہ ہوتیں۔سنگھ نے کہا کہ اب ان کی پوتی کے گنہگاروں کو بغیر دیر کئے پھانسی دینا چاہیے۔دریں اثنانربھیا کی ماں نے کہا کہ ان کا خاندان تقریبا چھ سال سے جدوجہد کر کے انصاف کی جنگ لڑ رہا ہے۔ انہیں خوشی ہے کہ درندوں کو کسی عدالت سے اب تک کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ انہیں عدالت کے آج کے فیصلے سے تسلی ہوئی ہے لیکن ایک نابالغ درندہ قانون کا فائدہ اٹھا کر پھانسی کی سزا سے بچ گیا، اس کا دکھ ہے۔نربھیا کے والد نے کہا کہ وہ فیصلے سے خوش ہیں۔ انہیں پورا یقین تھا کہ سپریم کورٹ سے درندوں کو کوئی راحت نہیں ملے گی۔معلوم ہو کہ سپریم کورٹ نے 16دسمبر 2012 کو دہلی میں ہوئے سنسنی خیز نربھیا اجتماعی عصمت دری سانحہ اور قتل کے معاملے میں پھانسی کے پھندے سے بچنے کی کوشش کر رہے تین قصورواروں کی نظر ثانی درخواست آج مسترد کر دیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس ر بھانمت اور جسٹس اشوک بھوشن کی تین رکنی بینچ نے مجرم مکیش، پون گپتا اور ونے کمار کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پانچ مئی، 2017 کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہے۔اس سنسنی خیز جرم میں چوتھے مجرم اکشے کمار سنگھ نے موت کی سزا کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے درخواست دائر نہیں کی تھی۔ دارالحکومت میں 16 دسمبر، 2012 کو ہوئے اس جرم کے لیے زیریں عدالت نے 12 ستمبر، 2013 کو چار قصورواروں کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس جرم میں ایک ملزم رام سنگھ نے مقدمہ زیر التوا ہونے کے دوران ہی جیل میں خود کشی کر لی تھی جبکہ چھٹا ملزم ایک نوجوان تھا۔دہلی ہائی کورٹ نے 13 مارچ، 2014 کو قصورواروں کو سزائے موت دینے کے زیریں عدالت کے فیصلے کی تصدیق کر دی تھی۔ اس کے بعد قصورواروں نے عدالت میں اپیل دائر کی تھیں جن پر کورٹ نے پانچ مئی، 2017 کو فیصلہ سنایا تھا۔


Share: